نئی دہلی، 18اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بھارت میں می ٹو مہم جاری ہے اور ہر دن کوئی نہ کوئی بڑا نام اس سے جڑ رہا ہے۔ فلم انڈسٹری اور میڈیا سے جڑے کئی نام سامنے آ چکے ہیں جن پر جنسی تشدد کے الزام لگے ہیں۔ بدھ کو ہی وزیر مملکت ایم جے اکبر نے اپنے اوپر لگے الزامات کے تحت استعفیٰ دے دیا۔اب ان کے استعفیٰ کو لے کر مودی حکومت کے ایک وزیر نے متنازعہ بیان دیا ہے۔ مرکزی وزیر رادھا کرشنن نے کہا کہ غلط ذہنیت والے لوگوں نے می ٹو مہم کا آغاز کیا ہے ۔ انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ سالوں پہلے ہوئی واقعات پر اب الزام لگانا کہاں تک مناسب ہے۔ بی جے پی لیڈر نے بدھ کو صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں یہ بیان دیا۔ مرکزی وزیرکے عہدے سے استعفیٰ دینے پر مجبور ہوئے ایم جے اکبر سمیت کئی نامی گرامی ہستیاں می ٹو کے گرداب میں پھنس چکی ہیں ۔سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے کئی اخبارات کے ایڈیٹر رہ چکے ایم جے اکبر پر کئی خواتین صحافیوں نے جنسی تشدد کے الزام لگائے تھے، جس کے بعد بدھ کو انہیں مرکزی وزیر عہدے سے استعفیٰ دینا پڑاتھا ۔ مرکزی وزیر رادھا کرشنن نے کہا کہ اگر کوئی الزام لگاتا ہے کہ ایسی چیز ہوئی جب واقعہ ہوا اس وقت ہم پانچویں کلاس میں ایک ساتھ کھیل رہے تھے ، تو کیا یہ مناسب ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ می ٹو مہم غلط ذہنیت والے کچھ لوگوں کی کار فرمائی کا نتیجہ ہے۔ رادھا کرشنن نے کہا کہ می ٹو مہم نے ملک اورخواتین کی شبیہ خراب کی ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مردوں کے لئے ایسے ہی الزام لگانا درست رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تو بڑی توہین کی بات ہوگی ، کیا یہ قابل قبول ہوگا۔ واضح ہو کہ می ٹو کے تحت اداکار نانا پاٹیکر، آلوک ناتھ، فلمساز سبھاش گھئی، مصنف چیتن بھگت، گلوکار کیلاش کھیر اور تامل نغمہ نگار سمیت کئی لوگوں پر جنسی تشدد کے الزام لگے ہیں۔